کچھ بچپن میں ہوئے کینسر کے علاج انڈوکرائن سسٹم میں پریشانی پیدا کر سکتے ہیں۔
اس بات کو سمجھنا مددگار ثابت ہوتا ہے کہ اندورنی غدود کا نظام کیسے کام کرتا ہے اور اس سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کیسے علاج اس کے کام پر برا اثر ڈال سکتا ہے۔
اندورنی غدود کا نظام گلٹیوں کا ایک سلسلہ ہے۔
دماغ میں موجود ہائپوتھلمس اور غدہ نخامیہ کو کبھی کبھی ”ماسٹر گلینڈز“ بھی کہا جاتا ہے۔ کینسر کے کچھ علاج، خاص طور پر دماغ کے لیے استعمال کیے جانے والے ریڈیئیشن سے ان غدود کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس میں ہونے والے نقصان کئی دشواریوں کی وجہ بن سکتا ہے۔
ہائپوتھلمس اور غدہ نخامیہ دوسرے غدودکو کنٹرول کرتی ہے جیسے کی:
یہ غدود ہارمونس بناتی ہیں۔ ہارمونز ایسے کیمیائی پیغام رساں ہیں، جو جسم صحیح سے اپنا کام کرتا رہے، اس کے لیے خون کے گردشی نظام کے ذریعے معلومات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجاتے ہیں۔
اندورنی غدود کا نظام کنٹرول کرتا ہے:
اندورنی غدود کا نظام غدودوں کا ایک ایسا گروپ ہے جو جسم کے بہت سے عمل جیسے ترقی، جوانی کے دوران جسم میں ہونے والی تبدیلی، توانائی کی سطح، پیشاب کی پیداوار، اور تناؤ کے رد عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ مرد اور عورت کے اندورنی غدود کے نظام کے اعضاء الگ الگ ہوتے ہیں۔ مردوں میں ٹیسٹیز (خصیتین) ہوتے ہیں۔ عورتوں میں بیضہ دانی ہوتے ہیں۔
اندورنی غدود کا نظام غدودوں کا ایک ایسا گروپ ہے جو جسم کے بہت سے عمل جیسے ترقی، جوانی کے دوران جسم میں ہونے والی تبدیلی، توانائی کی سطح، پیشاب کی پیداوار، اور تناؤ کے رد عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ مرد اور عورت کے اندورنی غدود کے نظام کے اعضاء الگ الگ ہوتے ہیں۔ عورتوں میں بیضہ دانی ہوتے ہیں۔ مردوں میں ٹیسٹیز (خصیتین) ہوتے ہیں۔
اندورنی غدود کا نظام غدودوں کا ایک ایسا گروپ ہے جو جسم کے بہت سے عمل جیسے ترقی، جوانی کے دوران جسم میں ہونے والی تبدیلی، توانائی کی سطح، پیشاب کی پیداوار، اور تناؤ کے رد عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ مرد اور عورت کے اندورنی غدود کے نظام کے اعضاء الگ الگ ہوتے ہیں۔ مردوں میں ٹیسٹیز (خصیتین) ہوتے ہیں۔ عورتوں میں بیضہ دانی ہوتے ہیں۔
اندورنی غدود کا نظام غدودوں کا ایک ایسا گروپ ہے جو جسم کے بہت سے عمل جیسے ترقی، جوانی کے دوران جسم میں ہونے والی تبدیلی، توانائی کی سطح، پیشاب کی پیداوار، اور تناؤ کے رد عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ مرد اور عورت کے اندورنی غدود کے نظام کے اعضاء الگ الگ ہوتے ہیں۔ عورتوں میں بیضہ دانی ہوتے ہیں۔ مردوں میں ٹیسٹیز (خصیتین) ہوتے ہیں۔
اندورنی غدود کا نظام غدودوں کا ایک ایسا گروپ ہے جو جسم کے بہت سے عمل جیسے ترقی، جوانی کے دوران جسم میں ہونے والی تبدیلی، توانائی کی سطح، پیشاب کی پیداوار، اور تناؤ کے رد عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ مرد اور عورت کے اندورنی غدود کے نظام کے اعضاء الگ الگ ہوتے ہیں۔ مردوں میں ٹیسٹیز (خصیتین) ہوتے ہیں۔ عورتوں میں بیضہ دانی ہوتے ہیں۔
—
نظر ثانی: نومبر 2019