اہم مواد پر جائیں

اینوریسس (بستر گیلا کرنا) اور سکل سیل کی بیماری

اینوریسس کیا ہے؟

اینوریسس (بستر گیلا کرنا) اس وقت پیشاب کرنا ہے جب آپ کا ایسا ارادہ نہ ہو۔ یہ زیادہ تر رات کے وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص سو رہا ہوتا ہے۔ اس کا طبی نام نوکٹورنل اینوریسس ہے۔ کچھ لوگوں کو دن میں جاگتے ہوئے بھی پیشاب پر قابو رکھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ اسے ڈائیور نل اینوریسس کہا جاتا ہے۔

سکل سیل کی بیماری میں مبتلا بہت سے بچے اور نوعمر بستر گیلا کرنے کا تجربہ کرتے ہیں۔ کچھ بچے نوعمری کے آخری سالوں تک اس مسئلے سے نمٹتے رہتے ہیں۔

سکل سیل کی بیماری میں مبتلا افراد میں بستر گیلا کرنا زیادہ ہوتا ہے کیونکہ:

  • سکل سیل کی بیماری میں گردے پیشاب کو گاڑھا کرنے میں مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتے۔ اس کا مطلب ہے کہ جسم زیادہ مقدار میں پانی جیسا پیشاب بناتا ہے جو مثانے کو جلد بھر دیتا ہے۔
  • سکل سیل کی بیماری میں مبتلا افراد کو درد کے دوروں سے بچنے کے لیے زیادہ مقدار میں پانی پینا ضروری ہوتا ہے۔

جیسے جیسے آپ کا بچہ بڑا ہوتا ہے، بستر گیلا کرنے کا مسئلہ عام طور پر خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن نوکٹوریا (رات میں پیشاب کے لیے جاگنا) جوانی تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔

اینوریسس کی علامات

اینوریسس کی علامات میں شامل ہیں:

  • دن میں بار بار پیشاب کی حاجت ہونا
  • پیشاب پر قابو نہ رکھ پانا
  • بستر گیلا کرنا

اینوریسس کا علاج 

سکل سیل کی بیماری میں مبتلا مریضوں کے لیے بستر گیلا کرنے کا کوئی معیاری طبی علاج موجود نہیں ہے۔ لیکن آپ اپنے بچے کی مدد کرنے اور اینوریسس کو سنبھالنے کے ایسے طریقے اپنا سکتے ہیں جن سے بستر گیلا کرنے کے واقعات کم ہو جائیں۔ پہلا قدم یہ ہے کہ اپنے بچے کی عمر کے مطابق حکمتِ عملیوں کے ذریعے بستر گیلا کرنے کو سنبھالنے کی کوشش کریں۔ کچھ صورتوں میں آپ کی نگہداشت ٹیم ادویات بھی تجویز کر سکتی ہے۔

سونے سے پہلے والد اپنی بیٹی سے بات کر رہا ہے

بستر گیلا کرنے کو کم کرنے کے لیے رات میں پانی کی مقدار محدود کریں اور اپنے بچے کو دن بھر اور سونے سے پہلے باقاعدگی سے ٹوائلٹ استعمال کرنے کی یاد دلائیں۔

بستر گیلا کرنے میں مدد دینے کی حکمتِ عملیوں میں شامل ہیں:

  • اپنے بچے کو یقین دلائیں: بچے اکثر بستر گیلا کرنے پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں، اور یہ دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے بھی پریشان کن ہو سکتا ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے بچے کو بتائیں کہ بستر گیلا کرنا ان کی غلطی نہیں ہے۔ یاد رکھیں، آپ کا بچہ بستر گیلا کرنے پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ اپنے بچے کو سزا نہ دیں اور نہ ہی شرمندہ کریں۔
  • سیال (پانی) کی مقدار کو منظم کریں:سونے سے 2 گھنٹے پہلے اپنے بچے کو پانی یا مشروبات پینے نہ دیں۔ اپنے بچے کو کیفین والے مشروبات نہ دیں، خاص طور پر رات کے وقت۔
  • الارم لگائیں: رات کے دوران الارم لگا کر اپنے بچے کو باتھ روم جانے کے لیے جگائیں۔ بستر گیلا ہونے کا سینسر الارم استعمال کرنے کے بارے میں اپنی نگہداشت ٹیم سے بات کریں۔
  • جاذب بیڈ پیڈز یا ڈائپر استعمال کریں: اگر بستر گیلا ہو جائے تو صفائی کو آپ اور آپ کے بچے کے لیے آسان بنانے کے طریقے اپنائیں۔ اس سے تناؤ اور بے چینی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
  • ٹوائلٹ کا معمول بنائیں: یقینی بنائیں کہ آپ کا بچہ اپنے شیڈول کے مطابق باقاعدہ اوقات میں ٹوائلٹ استعمال کرے، جیسے جاگنے کے بعد، وقفوں کے دوران، کھانے کے بعد، اور سونے سے پہلے۔

یہ تجاویز مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ لیکن یہ ہمیشہ مؤثر نہیں ہوتیں۔ بستر گیلا کرنے کے بارے میں کسی ماہرِ نفسیات یا کاؤنسلر سے بات کرنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔

اگر چند ہفتوں تک یہ حکمتِ عملیاں آزمانے کے بعد بھی اینوریسس میں بہتری نہ آئے تو اپنی نگہداشت ٹیم سے بات کریں۔ نگہداشت ٹیم سے بات کیے بغیر اپنے بچے کو بستر گیلا کرنے کے لیے کوئی دوا نہ دیں۔

بستر گیلا کرنے کے بارے میں کلیدی نکات

  • سکل سیل کی بیماری میں مبتلا بچوں اور نوعمروں میں بستر گیلا کرنا (اینوریسس) عام ہوتا ہے۔
  • سکل سیل کی بیماری میں مبتلا بچوں اور نوعمروں میں بستر گیلا کرنے کا مسئلہ سزا دے کر بہتر نہیں کیا جا سکتا۔
  • ماہرین ابھی تک سکل سیل کی بیماری میں مبتلا بچوں اور نوعمروں کے لیے بستر گیلا کرنے کا بہترین علاج نہیں جانتے۔ لیکن کچھ تجاویز ایسی ہیں جن سے والدین مدد کر سکتے ہیں۔
  • اگر بستر گیلا کرنے کے بارے میں آپ کے کوئی سوالات یا خدشات ہوں تو اپنے بچے کی نگہداشت ٹیم سے بات کریں۔


جائزہ لیا گیا: اگست 2024

متعلقہ مواد